پاکستانی
معیشت اس وقت تاریخ کے بد ترین بحران سے گزر رہی ہے اور مہنگائی میں 40
فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ متوسط طبقے کے لئے اپنا کچن اور بچو ں کے
سکول کو چلانا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اس
وقت انفلیشن کی شرح35 فیصد جبکہ شرح سود21 فیصد ہو گئی ہے جس کی وجہ سے
سرکاری اور نجی اداروں کے ملازمین سخت پریشانی کے عالم میں ہیں۔
اس
وقت حکومت بجٹ کی تیاری میں ہے اور اگلے ماہ بجٹ اسمبلی میں پیش بھی ہونا
ہےاور حکومت پر ملازمین کی مختلف تنظیموں کا بھی بہت پریشر ہے اور اس کے
ساتھ ساتھ یہ ممکنہ طور پر الیکشن کا سال بھی ہے تو حکومت سرکاری ملازمین
کی تنخواہوں میں پندرہ سے لے کر تیس فیصد تک اضافہ کر سکتی ہے جبکہ ملازمین
کی تنظیموں نے سو فیصد تک تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔
گورنر
سندھ نے بھی حکومت کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ موجودہ مہنگائی کو سامنے
رکھتے ہوئے ملازمین کی تنخواہوں میں 40 فیصد اضافہ کیا جائے اور مزدور کی
کم سے کم تنخواہ میں بھی اضافہ کیا جائے اور کم سے کم تنخواہ 50000 کی
جائے۔ پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ نے بھی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حکومت
سے اپیل کی کہ کم سے کم تنخواہ میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے۔
امید
کی جاتی ہے کہ انفلیشن اور شرح سود اور مہنگائی اور الیکشن کو سامنے رکھتے
ہوئے حکومت ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کرے گی تاکہ انکی
مشکلات میں کچھ کمی ہو سکے اور حکومت کو بھی آنے والے الیکشن میں عوام میں
کچھ پزئرائی مل سکے۔
تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے اپڈیٹ کے لئے پیج کو لائک کریں۔
0 Comments